بنگلورو۔یکم مارچ(ایس او نیوز) اترپردیش ، پنجاب ، گوا ، اتراکھنڈ اور منی پورکے اسمبلی انتخابات کے فوراً بعد کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا اشارہ دیا گیا ہے۔11، مارچ کو پانچ ریاستوں کاانتخابی عمل مکمل ہوجائے گا، اسی لئے کانگریس اعلیٰ کمان نے ابھی سے کے پی سی سی کے نظام میں تبدیلی لانے کی تیاری شروع کردی ہے۔
گزشتہ ہفتہ کے پی سی سی رابطہ کمیٹی میٹنگ کے دوران کے پی سی سی صدارت سے ڈاکٹر پرمیشور کو ہٹاکر کسی اور کو مقرر کرنے کے سلسلے میں بات چیت ہوئی ہے۔ اور ساتھ ہی تمام ضلع کانگریس صدور کا از سر نو تقرر کرکے ضلعی سطح پر پارٹی کو منظم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ پچھلے ساڑھے چھ سال سے بحیثیت کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور پارٹی کے تمام لیڈروں کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھنے میں کامیاب رہے ہیں ،چند ماہ پہلے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے انہیں اپنی کابینہ کا حصہ بنایا اور داخلہ کا قلمدان سونپا ہے۔ اس سلسلے میں اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج کرناٹک ڈگ وجئے سنگھ کے سامنے بھی بعض لیڈروں نے یہ تجویز رکھی کہ کے پی سی سی صدارت کیلئے کسی موضوع لیڈر کا انتخاب ہونا چاہئے، تاہم ڈگ وجئے سنگھ نے اس پر کسی طرح کا ردعمل ظاہر نہیں کیا، جس کے بعد طے کیاگیا ہے کہ پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کے بعد اس سلسلے میں صدر کانگریس سونیاگاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی سے نمائندگی کی جائے گی۔
فی الوقت کے پی سی سی صدارت کے اہم دعویداروں میں ریاستی وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار ، رکن پارلیمان کے ایچ منی اپا ، سابق وزیر ایس آر پاٹل، دہلی میں کرناٹک کے نمائندہ اپاجی ناڈگوڈا وغیرہ شامل ہیں۔ لنگایت طبقے سے وابستہ ایس آر پاٹل کو کے پی سی سی صدارت دینے کیلئے وزیر اعلیٰ سدرامیا کا گروپ کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف وکلیگا فرقہ سے وابستہ ڈی کے شیوکمار بھی اس عہدہ کے اہم دعویدار مانے جاتے ہیں ان دونوں طبقات کو چھوڑ کر کسی اور کو کے پی سی سی صدر منتخب کئے جانے کے معاملے میں ریاستی قیادت اس قدر سنجیدہ نہیں ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ انتخابات کو قریب دیکھ کر اعلیٰ کمان کی طرف سے ایک بار پھر ڈاکٹر پرمیشور کو ہی ہدایت دی جائے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات تک وہ کے پی سی سی صدار ت کی ذمہ داری کو سنبھالتے رہیں تاکہ اپنے طویل تجربہ کی بنیاد پر وہ ریاست میں پارٹی کو منظم کریں اور انتخابات کا سامناکرنے کیلئے تمام کو اعتماد میں لے کر کام کرسکیں۔اس مرحلے میں اگر ریاستی قیادت تبدیلی کی گئی تو اسے سنبھلنے اور ریاستی سطح پر نئے صدر کی طرف سے پارٹی کو منظم کرنے میں کافی عرصہ لگ سکتاہے، جس سے انتخابات میں پارٹی کے امکانات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔